دہلی میں دھرنے پر بیٹھے ٹی آر ایس سربراہ’ کے سی آر‘ کا مرکزی حکومت کو چیلنج، کہا کہ ایم ایس پی سے متعلق جلداز جلد نئی پالیسیوں کاا علان کیا جائے ، ورنہ ہم حکومت گرادیں گے، تلنگانہ میں بھی احتجاج
نئی دہلی، 12؍اپریل (ایس او نیوز؍ایجنسی) یہاں دھرنے پر بیٹھے تلنگانہ کے وزیراعلیٰ اور ٹی آر ایس سربراہ کے چندر شیکھر راؤ (کے سی آر) نے مودی حکومت کو چیلنج دیتے ہوئے 24؍ گھنٹے کا الٹی میٹم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس درمیان اگر ایم ایس پی سے متعلق کوئی ٹھوس اور مناسب پالیسی کااعلان نہیں کیا گیا تو ہم مرکزی حکومت کو گرادیں گے۔ دوسری طرف اس مسئلے پر تلنگانہ میں بھی احتجاج ہوا اور مودی سرکار کے خلاف نعرے بازی ہوئی۔
کے سی آرنے کہا کہ ریاست کے عوام اور کسان مرکز کے ساتھ لڑنے کیلئے اب پوری طرح سے تیار ہیں۔ ریاست سے دھان کی خریداری کے مسئلے پر قومی دارالحکومت نئی دہلی کے تلنگانہ بھون میں ٹی آر ایس پارٹی کی جانب سے منعقدہ یک روزہ دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے مرکز کو24؍ گھنٹے کا الٹی میٹم دیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مرکز دھان کی خریداری سے متعلق 24؍ گھنٹے کے اندر کوئی ٹھوس فیصلہ کرے بصورت دیگر کسانوں کے ساتھ مل کر ایک حکمت عملی تیار کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ملک میں کسان بھکاری نہیں ہیں بلکہ اپنا حق مانگ رہے ہیں۔
چندرشیکھرراؤ نے دھان کی خریداری کیلئے قومی سطح پر ایک پالیسی بنانے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے زوردیتے ہوئے کہا کہ اگر مرکز تمام ریاستوں کیلئے ایک پالیسی نہیں بناتی ہے تو کسان سڑکوں پر اُتر آئیں گے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ’’میں مودی اور پیوش گوئل سے دونوں ہاتھ جوڑ کر اپیل کر رہا ہوں کہ تلنگانہ کے کسانوں سےدھان کی خریداری کو آسان بنائیں۔ تلنگانہ سے2؍ ہزار کلومیٹر دہلی میں ہم بھوک ہڑتال اور دھرنا دے رہے ہیں۔ اتنی دور آکر دھرنا دینے کیلئے کون ذمہ دار ہے؟‘‘
انھوں نے وزیراعظم نریندر مودی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہر کسی کو پریشان کریں لیکن کسانوں کو پریشان نہ کریں۔ حکومت میں کوئی بھی ہمیشہ نہیں رہے گا۔ ہم دھان خریدنے کیلئے دہلی میں دھرنا دے رہے ہیں۔ انہوں نے اس دھرنے کی حمایت کرنے یہاں پہنچنے راکیش ٹکیت کا خصوصی طورپر شکریہ ادا۔انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ تحریکوں کی جدوجہد کے نتیجے میں2014ء میں تلنگانہ آیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے کسانوں کیلئے کئی اقدامات کئے ہیں۔ ہم کسانوں کو24؍ گھنٹے مفت بجلی فراہم کرتے ہیں۔ تالابوں کی صاف صفائی کیلئے مشن کاکتیہ پروگرام شروع کیا گیا جس سے تلنگانہ کے تالاب پانی سے لبریز ہوگئے ہیں۔
تلنگانہ کے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر حکومت کی جانب سے کچھ نہیں کیا گیا تو کسانوں کے ساتھ مل کر ایک حکمت عملی تیار کی جائے گی تاکہ ریاست کے کسانوں کے مفادات کا تحفظ کیاجائے اور مرکز کی بی جے پی حکومت کے دہرے معیارات اور اس کی سیاسی سازشوں کو بے نقاب کیاجائے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آرایس ہم خیال جماعتوں کی حمایت حاصل کرے گی۔ کسانوں سے متعلق مسائل کی مرکز کی جانب سے یکسوئی تک کسانوں سےمتعلق تحریک چلائی جائے۔انہوں نے کہا کہ’’ ہم شدت کا زلزلہ لائیں گے جو دہلی کی سلطنت کو ہلاکررکھ دے گا۔‘‘
انہوں نے مرکزی وزیر غذا پیوش گوئل کے اس بیان پر سخت برہمی کااظہار کیا جس میں انہوں نے ریاستی وزرا کے وفد کو مشورہ دیا تھا کہ وہ تلنگانہ کے عوا م کو کنکیاں کھانے کا عادی بنائیں۔انہوں نے انتباہ دیا کہ ملک کے کسانوں کو مشکل میں ڈالنے والی حکومتیں زیادہ عرصہ تک برقرار نہیں رہ سکتیں۔ یہ تکبر ہے اور تکبر بہت دیر تک ساتھ نہیں دیتا ۔ انہوں نے کہا کہ پورے ملک کے لوگ کسان اور تلنگانہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مرکزی وزیرپیوش گوئل کو ’پیوش گول مال‘ قرار دیا اور کہاکہ مرکزی وزیر نے کئی مرتبہ ریاست کے کسانوں کی توہین کی ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی وزیر کشن ریڈی اور تلنگانہ بی جے پی کے صدربنڈی سنجے نے عوام کو دھان کی پیداور کیلئے مجبور کیا اوریقین دہانی کروائی کہ مرکزی حکومت، ریاست سے دھان کے ہر دانے کی خریداری کرے گی۔انہوں نے ریاستی حکومت کے خلاف حیدرآباد میں احتجاج کرنے پر بی جے پی پر نکتہ چینی بھی کی۔انہوں نے کہاکہ ایک مرتبہ تلنگانہ نے اس مسئلہ پر جدوجہد کا فیصلہ کیا تو اس مسئلے کے حل ہونے تک ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم مودی،تلنگانہ کے عوام کے خلاف حکمت عملی پر عمل کررہے ہیں۔مودی ووٹ چاہتے ہیں اور وہ کبھی بھی کسانوں سے دھان کی خریداری نہیں کرنا چاہتے۔ انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت، اپوزیشن کو سی بی آئی، ای ڈی کا استعمال کرتے ہوئے خوفزدہ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا مرکز کی ایجنسیوں سی بی آئی یا ای ڈی کے ذریعہ بی جے پی کے کسی لیڈر سے بھی کوئی پوچھ تاچھ کی گئی ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ سب بہت دن نہیں چلے گا۔